hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11678

.

كنز العمال

11678
Kanz al-Ummal
11678- عن يحيى بن عبد الله بن مالك أن عمر بن الخطاب كتب إلى عمرو بن العاص: أن يحمل طعاما من مصر في البحر حتى يرسي به إلى بولاء، وكان الساحل يقسمه على الناس على حالاتهم وعيالاتهم، وإن أهل المدينة قوم محصورون، وليست بأرض زرع فبعث عمرو بن العاص بعشرين مركبا في البحر، وبعث في كل مركب ثلاثة آلاف إردب حب وأكثر وأقل حتى انتهت إلى الجار وهو المرفأ اليوم وبلغ عمر بن الخطاب قدومها فخرج وخرج معه الأكابر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنظر إلى السفن فحمد الله الذي ذلل لهم البحر حتى جرت فيه منافع المسلمين إلى المدينة وأمر سعد الجار أن يقبض ذلك الطعام وإن يستوفيه، فلما قدم عمر المدينة قسم ذلك الطعام على الناس، وكتب لهم بالصكاك إلى الجار فكانوا يخرجون ويقبضون ذلك. "ابن سعد".
1174 ۔۔۔ یحییٰ بن عبداللہ بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمروبن العاص (رض) کی طرف لکھا کہ کھانے پینے کا سامان لے کر مصر سے سمند رکے راستے لے کر آئیں اور ساحل پر لنگر انداز ہوں اور ساحل لوگوں کے حالات اور گھروالوں کے مطابق تقسیم تھا اور اھل مدینہ تو چاروں چرف سے گھرے ہوئے تھے، مدینہ کی ایسی نہ تھی جہاں کھیتی باڑی ہوسکے، چنانچہ حضرت عمروبن العاص (رض) نے مصر سے بیس کشتیوں میں سامان بھیجا ، ہر کشتی میں تین ہزار ارب کم وبیش دانے تھے حتیٰ کہ کشتیاں ساحل کے کنارے آنے لگیں ساحل بھی چمک رہا تھا،حضرت عمر (رض) اور بڑے بڑے صحابہ کرام (رض) ان کے استقبال کے لیے پہنچے ، آپ (رض) نے جب کشتیوں کو دیکھا تو اللہ کا شکریہ ادا کیا جس نے مسلمانوں کے لیے سمندر کو مسخر کردیاتھاتا کہ اس میں مسلمانوں کے فائدے مدینہ تک جاپہنچ سکیں اور حضرت سعد (رض) کو حکم دیا کہ کھانے کا سامان کو وصول کرلیں اور پوراپورا دیں، پھر جب حضرت عمر (رض) مدینہ منورہ واپس آئے تو یہ کھانے کا سامان لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا، اور لوگوں کے لیے پرچیاں لکھ دیں جو وہ لے کرجاتے اور کھانا وصول کرتے “۔ (ابن سعد)