hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11698

.

كنز العمال

11698
Kanz al-Ummal
11698- عن مالك بن أوس بن الحدثان قال: قرأ عمر بن الخطاب: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} حتى بلغ {عَلِيمٌ حَكِيمٌ} ، ثم قال: هذه لهؤلاء، ثم قرأ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} الآية، ثم قال: هذه لهؤلاء المهاجرين، ثم قرأ: {وَالَّذِينَ تَبَوَّأُوا الدَّارَ وَالْأِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ} إلى آخر الآية، فقال: هذه للأنصار، ثم قرأ: {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ} إلى آخر الآية، ثم قال: استوعبت هذه الآية المسلمين عامة، وليس أحد إلا له في هذا المال حق إلا ما تملكون من رقيقكم، ثم قال: لئن عشت ليأتين الراعي وهو بسرو حمير نصيبه منها لم يعرق فيه جبينه. "عب وأبو عبيد".
11694 ۔۔۔ حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے ان آیات کی تلاوت فرمائی کہ ” صدقات توفقراء، اور مساکین کے لیے ہی ہیں “ سے لے کر ” حکیم علیم “۔ (سورة توبہ آیت 60)
” پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہے، پھر تلاوت فرمائی کہ جان لو کہ تمہیں جو کسی چیز سے غنیمت ملتی ہے تو اس کو خمس اللہ کے لیے ہے “۔ (سورة الانفال آیت 41)
پھر فرمایا کہ یہ آیت ان مہاجرین کے لیے ہے پھر اس کی تلاوت فرمائی کہ والذین تبو والدار والایمان الخ (الحشر آیت نمبر 9)
آخر آیت تک اور فرمایا کہ یہ آیت انصار کے لیے ہے، پھر تلاوت فرمائی ” وہ لوگ جوان کے بعد آئے “۔ (الحشر آیت نمبر 10) آخر آیت تک ، پھر فرمایا کہ اس آیت کے عموم میں تمام مسلمان شامل ہیں اور کوئی ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق ہو علاوہ ان غلاموں کے جو تمہاری ملکیت میں ہیں، پھر فرمایا کہ اگر میں زندہ رہاتو بسر اور حمید کا چرواہا بھی اپنا حق لینے آئے گا اور اس کی پیشانی پر پسینہ بھی نہ آیا ہوگا “۔ (عبدالرزاق، ابوعبید )