11738- عن الزهري عن عبد الله بن ثعلبة بن صعير العذري وكان ولد عام الفتح فأتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم فمسح على وجهه وبرك عليه قال: لما أشرف رسول الله صلى الله عليه وسلم على قتلى أحد قال: أنا الشهيد على هؤلاء ما من جريح يجرح في الله إلا الله يبعثه يوم القيامة وجرحه يثعب دما اللون لون الدم والريح ريح المسك انظروا أكثرهم جمعا للقرآن فاجعلوه أمام صاحبه في القبر وكانوا يدفنون في القبر الاثنين والثلاثة في القبر الواحد. "ابن جرير كر".
11734 ۔۔۔ زہری روایت کرتے ہیں عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر العذری سے ان کی ولادت فتح مکہ کے دن ہوئی تھی چنانچہ ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہرے پر ہاتھ مبارک پھیرا اور برکت عطا فرمائی ، آگے فرمایا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے شہداء پر مطلع ہوئے تو فرمایا کہ میں ان پر گواہ ہوں جو اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہوگا جس کا رنگ توخون کی طرح ہوگا لیکن خوشبومشک کی طرح ہوگی، دیکھو ان شہداء میں کون حافظٖ تھا قرآن پاک کا سو اس کو قبر میں اپنے ساتھی سے آگے رکھو، اور اس دن ایک قبر میں دودو اور تین تین، شہداء کی تدفین ہوئی “۔ (ابن جریر)