11748- عن أنس أن عمر بن الخطاب أقبل ليأتي الشام فاستقبله طلحة ابن عبد الله وأبو عبيدة بن الجراح، فقالا: يا أمير المؤمنين إن معك وجوه أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وخيارهم وإنا تركنا بعدنا مثل حريق النار يقال له: الطاعون فارجع العام، فرجع فلما كان العام المقبل جاء فدخل. "كر".
11744 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) شام روانہ ہوئے جب شام کے قریب پہنچے تو حضرت طلحہ بن عبداللہ اور حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح (رض) استقبال کے لیے شام کے باہرہی موجود تھے انھوں نے عرض کیا یا امیرالمومنین آپ کے ساتھ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بڑے بڑے صحابہ کرام (رض) ہیں اور ہم نے اپنے پیچھے ایسے لوگ چھوڑے ہیں جیسے کہ آگ سے جل گئے ہوں، اس بیماری کو طاعون کہا جاتا ہے چنانچہ آپ اس سال واپس تشریف لے جائیں چنانچہ حضرت عمر (رض) واپس تشریف لے آئے اور پھر اگلے سال شام تشریف لے گئے۔
فائدہ :۔۔۔ شہادت حکمی کے بیان میں طاعون کا ذکر لانے سے مراد یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی اس مرض میں مبتلا ہو کر مرجائے تو وہ حکماً شہید ہوگا جیسے کہ پہلے روایات میں گزر چکا ہے، اور اس کا حکم یہ ہے کہ جب کسی علاقے کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہاں طاعون کی بیماری پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جانا چاہیے اور اگر کسی علاقے میں یہ بیماری پھیل جائے تو وہاں کے رہنے والوں کو وہ علاقہ چھوڑ کر بھاگنا نہ چاہیے، کیونکہ اگر اس بیماری سے بچ گئے تو فبہا اور اگر موت آگئی تو شہادت نصیب ہوجائے گی “۔ زیادہ تفصیل کی حاجت تو کسی مستند دارالافتاء مفتی سے رجوع کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)