11764- عن أنس بن مالك قال، قدم ناس من عرينة المدينة فاجتووها، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن شئتم أن تخرجوا إلى إبل الصدقة فتشربوا من أبوالها وألبانها ففعلوا واستصحوا فمالوا على الرعاء فقتلوهم واستاقوا ذود رسول الله صلى الله عليه وسلم وكفروا بعد إسلامهم فبعث في آثارهم فأتى بهم فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم وتركوا بالحرة حتى ماتوا. "عب".
حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ عرینہ سے مدینہ منورہ آئے لیکن وہاں کی آب وہوا ان کو راس نہ آئی اور وہ بیمارپڑ گئے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ اگر چاہو تو وہاں چلے جاؤ جہاں صدقہ کے اونٹ ہیں، وہاں جا کر ان کے پیشاب اور دودھ پیو چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور بھلے چنگے ہوگئے چنانچہ پھر وہ چرواہوں کی طرف متوجہ ہوئے ان کو قتل کردیا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹوں کو ہانک کرلے گئے، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹوں کو ہانک کرلے گئے، اور اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ کفر اختیار کرلیا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو بھیجا، ان کو پکڑ کر لایا گیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ہاتھ پیر کٹوادئیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انھیں گرم ریگستان میں پھنکوا دیا گیا جہاں وہ مرگئے۔ (مصنف عبدالرزاق)