11776- عن عمرو بن العاص، قال: ما رأيت قريشا أرادوا قتل النبي صلى الله عليه وسلم إلا يوما ائتمروا به وهم جلوس في ظل الكعبة ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي عند المقام، فقام إليه عقبة بن أبي معيط فجعل رداءه في عنقه، ثم جذبه حتى وجب لركبتيه ساقطا وتصايح الناس فظنوا أنه مقتول، فأقبل أبو بكر يشتد حتى أخذ بضبعي رسول الله صلى الله عليه وسلم من ورائه، ويقول: أتقتلون رجلا أن يقول: ربي الله؟ ثم انصرفوا عن النبي صلى الله عليه وسلم، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلما قضى صلاته مر بهم وهم جلوس في ظل الكعبة، فقال: يا معشر قريش أما والذي نفس محمد بيده ما أرسلت إليكم إلا بالذبح وأشار بيده إلى حلقه، فقال له أبو جهل: ما كنت جهولا، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنت منهم. "ش".
11772 ۔۔۔ حضرت عمرو بن العاص (رض) فرماتے ہیں میں نے قریش کو اسی دن دیکھا جس دن انھوں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کی سازش کی اور ارادہ کرلیا، اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام ابراہیم کے نزدیک نماز ادا فرما رہے تھے چنانچہ عقبہ بن ابی معیط کھڑا ہوا اور اپنی چادر کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک گلے میں ڈال کر کھینچا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھٹنوں پر گرپڑے، لوگوں نے چیخنا شروع کردیا اور سمجھے کہ شاید (معاذ اللہ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل ہوگئے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) آگے بڑھے اور پیچھے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک پہلوؤں کو پکڑ کر کھینچا اور کہا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے ؟ چنانچہ پھر وہ لوگ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر ایک طرف ہوگئے، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور اپنی نماز مکمل کرنے لگے جب نماز ادافرماچکے تو ان کے پاس سے گزرے وہ بدستور خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اے قریشیوں کے گروہ ! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں تمہیں ذبح کرنے کے لیے ہی بھیجا گیا ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگشت مبارک اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا۔ ابوجہل بولا تو اتنا جاہل تو نہ تھا۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ
تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا تو جو ہے۔ (ابن ابی شیبہ)