1191 – "إن الإسلام بدأ جذعا ثم ثنيا ثم رباعيا ثم سديسا ثم بازلا". (حم عن رجل) .
١١٩١۔۔ اسلام اونٹ کے بچہ کی مانند توخیزی وکس میرسی کے عالم میں اٹھا پھر اس کے سامنے کے ثنائی دانت نکلے پھر برابر کے رباعی دانت نکلے پھر رباعی کے بعد والے دانت نکلے پھر اسلام اپنے عنفوان شباب کے آخری مرحلہ پر آیا اور اس کے کیچیلی والے دانت بھی نکل بچے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے اس کی ارتقائی منازل کو بیان کیا گیا ہے آخری مرحلہ بزدل کا فرمایا حالت بزدل میں اونٹ آٹھویں سال میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ اس کی قوت کا انتہائی زمانہ ہوتا ہے اسی وجہ سے دوسرے مقام پر اس روایت کے آخر میں حضرت عمر (رض) کا ارشاد ہے کہ بزدل کے بعد سوائے نقصان وتنزلی کے کچھ نہیں رہ جاتا ۔ یعنی عنقریب اسلام اس حالت میں پہنچ کر حاملین اسلام کی زبوں حالی کی وجہ سے اپنا عروج واقبال کھوبیٹھے گا۔