12658- عن سلمان بن ربيعة قال: نظرنا إلى عمر بن الخطاب يوم النفر الأول فخرج علينا تقطر لحيته ماء في يده حصيات وفي حزمه3 حصيات ماشيا يكبر في طريقه حتى أتى الجمرة الأولى، فرماها، ثم رماها حتى انقطع من الحصيات لا يناله حصى من رمى، ثم دعا ساعة ثم مضى إلى الجمرة الوسطى ثم الأخرى. "مسدد".
12658 سلمان بن ربیعہ سے مروی ہے فرمایا ہم نے پہلے کوچ کے دن حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا آپ (رض) نکلے تو آپ (رض) کی ڈاڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ کے ہاتھ میں کنکریاں تھیں اور آپ کی (کمر بند) پیٹی میں بھی چند کنکریاں تھیں، آپ (رض) اپنے راستے میں تکبیر کہتے ہوئے جارہے تھے حتیٰ کہ جمرہ اولیٰ کے پاس پہنچے اور اس کو کنکر ماری اور پھر ماری حتیٰ کہ کنکریاں ختم کردیں اور کسی مارنے والے کی کنکریاں آپ (رض) کی کنکریوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ پھر آپ (رض) نے ایک گھڑی (تقریباً پون گھنٹہ) کھڑے دعا فرماتے رہے پھر جمرہ وسطی پر تشریف لے گئے پھر تیسرے پر۔ مسدد