12729- عن يزيد بن أبي حبيب قال: سألت عائشة عن لحوم الأضاحي، فقالت: لقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنها، ثم رخص فيها، قدم علي بن أبي طالب من سفر فأتته امرأته فاطمة بلحم من ضحاياها، فقال: أو لم ينه عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: إنه رخص فيها فدخل علي على رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن ذلك، فقال له: كلها من ذي الحجة إلى ذي الحجة. "حم والخطيب في المتفق والمفترق".
12729 یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے قربانیوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے منع فرمایا تھا پھر ان کی رخصت (اجازت) عطا فرمادی۔ علی بن ابی طالب (رض) ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو ان کی بیوی فاطمہ (رض) نے قربانی کا گوشت ان کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے منع نہیں فرمایا تھا ؟ فاطمہ (رض) بولیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو (گوشت) کھانے کی اجازت مرحمت فرمادی ہے۔ چنانچہ علی (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے بارے میں سوال کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اب تم ان قربانیوں کا گوشت ذی الحجہ سے (اگلی) ذی الحجہ تک کھا سکتے ہو۔۔
مسند احمد ، الخطیب فی المتفق والمفترق