hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 12779

.

كنز العمال

12779
Kanz al-Ummal
(12779 -) عن أسلم قال : قدم معاوية بن أبي سفيان وهو أبيض وأبض الناس (3) وأجملهم ، فخرج إلى الحج مع عمر بن الخطاب ، وكان ينظر إليه فيعجب منه ، ثم يضع أصبعه على متنه يرفعها على مثلي الشراك فيقول : بخ بخ نحن أذا خير الناس إن جمع لنا خير الدنيا والآخرة ، فقال معاوية : يا أمير المؤمنين سأحدثك ، إنا بأرض الحمامات والريف ، فقال عمر : سأحدثك ما بك ، إلطافك نفسك بأطيب الطعام ، وتصبحك حتى تضرب الشمس متنك وذو الحاجات وراء الباب ، فلما جئنا ذا طوى أخرج معاوية حلة فلبسها فوجد عمر منها ريحا كأنه ريح طيب فقال : يعمد أحدكم فيخرج حاجا يقاد حتى إذا جاء أعظم بلدان الله حرمة أخرج ثوبيه كأنهما كانا في الطيب فلبسهما ، فقال معاوية : إنما لبستهما لان أدخل فيهما على عشيرتي أو قومي ونزع معاوية الثوبين ولبس ثوبيه الذي أحرم فيهما. (ابن المبارك).
12779 اسلم سے مروی ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رض) تشریف لائے وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت حسین و جمیل اور سفید چہرے والے تھے۔ وہ حج پر حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ تشریف لے گئے۔ حضرت عمر (رض) ان کی طرف دیکھتے اور تعجب فرماتے۔ پھر اپنی انگلی ان کی کمر پر رکھ کر اوپر کھینچتے اور (بطور طنز) فرماتے واہ ! واہ ! اگر ہمارے پاس دنیا و آخرت دونوں کا مال اکٹھا ہوجائے تو ہم لوگوں میں بہترین ہوجائیں گے ۔ معاویہ (رض) نے عرض کیا : امیر المومنین میں آپ کو بتاتا ہوں، ہم لوگ سرسبز علاقے میں رہنے والے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ٹھہرو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ تم نے اپنے نفس کو عمدہ کھانوں کے ساتھ نازونعمت میں مشغول کررکھا ہے اور تم صبح اس وقت کرتے ہو جب سورج تمہاری کمر پر روشنی مارتا ہے جبکہ حاجت مند دروازے کے باہر کھڑے رہتے ہیں۔ اسلم کہتے ہیں : جب ہم ذی طوی میں پہنچے تو حضرت امیر معاویہ (رض) نے ایک عمدہ جوڑا نکالا اور پہن لیا۔ حضرت عمر (رض) کو اس میں سے خوشبو محسوس ہوئی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم میں سے کوئی کوئی حج کے ارادے سے نکلتا ہے اور لوگ اس کی اتباع کرتے ہیں اور جب وہ سب سے محترم شہر میں پہنچتا ہے تو اپنے کپڑے نکالتا ہے گویا وہ کپڑے خوشبو میں بسے ہوئے ہیں تاکہ ان کو پہن کر اپنی قوم اور اپنے خاندان والوں کے پاس جاؤں۔ پھر حضرت معاویہ (رض) نے وہ کپڑے نکالے اور پہلے والے کپڑے جن میں احرام باندھا تھا پہن لیے۔ ابن المبارک