12782- عن محمد بن سيرين أن رجلا جاء إلى عمر بن الخطاب فقال: إني أجريت أنا وصاحب لي فرسين نستبق إلى ثغرة ثنية فأصبنا ظبيا ونحن محرمان فماذا ترى؟ فقال عمر لرجل إلى جنبه: تعال حتى نحكم أنا وأنت فحكما عليه بعنز فولى الرجل وهو يقول: هذا أمير المؤمنين لا يستطيع أن يحكم في ظبي حتى دعا رجلا فحكم معه فسمع عمر قول الرجل فدعاه فسأله، هل تقرأ سورة المائدة؟ قال: فهل تعرف الرجل الذي حكم معي؟ فقال: لو أخبرتني أنك تقرأ سورة المائدة لأوجعتك ضربا، ثم قال: إن الله يقول في كتابه: {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} ، وهذا عبد الرحمن بن عوف. "هق"
12782 محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ ایک آدمی عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : میں اور میرا ایک ساتھی ہم دونوں اپنے گھوڑوں پر فلاں گھاٹی تک مقابلہ بازی کررہے تھے۔ ہم کو ایک ہرن مل گئی حالانکہ ہم محرم تھے پر ہم نے اس کا شکار کرلیا۔ اب اس میں آپ کا کیا خال ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک شخص کو فرمایا : آؤ ہم اس کا فیصلہ کریں۔ چنانچہ دونوں نے ایک بکری کا فیصلہ کیا ۔ چنانچہ آدمی یہ کہتا ہوا چلا گیا : یہ امیر المومنین ہیں جو ایک ہرن میں فیصلہ نہیں کرسکتے اس کے لیے دوسرا آدمی بلانا پڑتا ہے۔ پھر اس کے ساتھ مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے اس کا قول سن لیا۔ چنانچہ اس کو بلایا اور اس سے پوچھا : کیا تو سورة مائدہ پڑھتا ہے ؟ پھر فرمایا : کیا تو اس کو جانتا ہے جس نے میرے ساتھ فیصلہ میں شرکت کی ؟ اگر تو بتاتا کہ تو یہ سورت پڑھتا ہے تو میں تجھے ایسی مار مارتا کہ تجھے پتہ چل جاتا۔ پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یحکم بہ ذوا عدل منکن، اور یہ عبدالرحمن بن عوف ہیں۔ السنن للبیہقی