12806- عن عمير بن سلمة الضمري قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كنا بالروحاء فإذا بحمار في بعض أحياء الروحاء فيه سهم قد عقر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعوه فإنه يوشك أن يأتي صاحبه فأتى رجل من بهز فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا حمار عقرته وهذا سهمي فيه فشأنكم وشأنه فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا بكر فقسمه على القوم وهم حرم، ثم مضيا حتى إذا كنا بالأثاية إذا نحن بظبي حاقف2 على جبل فيه سهم فنظر إليه الناس فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا فقال: قف ههنا حتى يمر الرفاق لا يريبه أحد بشيء فجعل يذب الناس عنه حتى نفدوا. "ابن جرير".
12806 عمیر بن سلمۃ الضمری سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، جب ہم مقام روحاء پر پہنچے تو وہاں روحاء کے ایک علاقے میں ہمیں نیل گائے ملی ، جس میں ایک تیر پیوست تھا اور اس کو ذبح کیا ہوا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو یونہی چھوڑ دو شاید اس کا مالک آجائے۔ پھر قبیلہ کا ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ نیل گائے میں نے ذبح کی ہے اور اس میں یہ میرا تیرا بھی تک پیوست ہے، پس اب آپ لوگ اس کے مالک ہیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حکم دیا تو انھوں نے اس کا گوشت لوگوں میں تقسیم فرمادیا اور یہ (سب) لوگ حالت احرام میں تھے۔ پھر دونوں (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض)) چل پڑے (اور ہم بھی ساتھ ہولیے) حتیٰ کہ جب ہم اثایہ مقام پر پہنچے تو وہاں ایک ہرن پہاڑ پر ٹیڑھی میڑھی حالت میں پڑا تھا اور اس میں ایک تیر پیوست تھا۔ لوگوں کی نظر اس پر پڑی تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ یہاں کھڑا ہو حتیٰ کہ قافلے والے یہاں سے گزر جائیں اور کوئی اس کو تنگ نہ کرے۔ چنانچہ وہ آدمی لوگوں کو اس سے ہٹاتا رہا کہ سارا قافلہ وہاں سے گزر گیا۔ ابن جریر۔