12819- عن أبي أسماء مولى عبد الله بن جعفر أنه كان مع عبد الله بن جعفر فخرج معه من المدينة فمروا على الحسين بن علي وهو مريض بالسقيا فأقام عليه عبد الله بن جعفر حتى إذا خاف الفوات خرج وبعث إلى علي بن أبي طالب وأسماء بنت عميس وهما بالمدينة فقدما عليه، ثم إن حسينا أشار إلى رأسه فأمر علي برأسه فحلق ثم نسك عنه بسقيا فنحر عنه بعيرا. "مالك هق"
12819 عبداللہ بن جعفر (طیار) کے آزاد کردہ غلام ابواسماء سے مروی ہے کہ وہ اپنے آقا عبداللہ بن جعفر ک ساتھ تھے۔ وہ عبداللہ بن جعفر (رض) کے ساتھ مدینے سے نکلے تو راستہ میں مقام سقیا پر ان کا گزر حسین بن علی (رض) پر ہوا وہ اس مقام پر پہنچ کر بیمار پڑگئے تھے۔ عبداللہ بن جعفر ان کے پاس ٹھہر گئے (اور تیمارداری میں مشغول ہوگئے) حتیٰ کہ جب ان کو اپنا حج فوت ہوجانے کا ڈر ہوا تب وہ وہاں سے نکلے اور علی بن ابی طالب اور اسماء بنت عمیس (رض) کو (جو کہ حج کے ارادے سے نکلے تھے) نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو حضرت علی (رض) نے حکم دیا اور حضرت حسین (رض) کے سر کے بال مونڈدیئے گئے پھر اسی سقیا مقام سے دوسرے آدمی کو بھیجا اس نے جاکر حضرت حسین (رض) کی طرف سے اونٹ قربان کیا۔ موطا امام مالک، السنن للبیہقی