hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 12821

.

كنز العمال

12821
Kanz al-Ummal
12821- عن مروان أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج عام صدوه فلما انتهى إلى الحديبية اضطرب في الحل وكان مصلاه في الحرم فلما كتبوا القضية وفرغوا منها دخل الناس من ذلك أمر عظيم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أيها الناس، انحروا واحلقوا وأحلوا فما قام رجل من الناس، ثم أعادها فما قام رجل من الناس، ثم أعادها فما قام أحد من الناس، ثم دخل على أم سلمة فقال: ما رأيت ما دخل على الناس فقالت: يا رسول الله، فاذهب فانحر هديك، واحلق وأحل فإن الناس سيحلون فنحر رسول الله صلى الله عليه وسلم وحلق وأحل. "ش".
12821 مروان سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سال جس سال آپ کو (حج پر جانے سے مشرکین نے روک دیا تھا) ۔ یعنی چھ ہجری کو صلح حدیبیہ کے موقہ پر نکلے اور جب حدیبیہ تک پہنچے تو حل میں پریشان ہوگئے اور آپ کا مقصود حرم تھا (اور پھر مشرکین سے نزاع کے بعد) جب عہد نامہ لکھ لیا گیا اور اس سے فارغ ہوگئے تو یہ امر (مسلمان) لوگوں کو بہت شاق گزرا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اپنے جانور (یہیں) قربان کرلو اور سرمنڈا کر حلال ہوجاؤ، لیکن کوئی شخص بھی نہ اٹھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر یہی ارشاد مبارک دہرایا پھر بھی کوئی شخص نہ اٹھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسری بار اپنا فرمان دہرایا تب بھی کوئی نہ اٹھا۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ساتھ آئی ہوئیں ام المومنین) ام سلمہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : آج جو لوگوں کی (رنج وغم کی) کیفیت ہے وہ میں نے (پہلے کبھی) نہیں دیکھی۔ حضرت ام سلمۃ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ خود جائیے اور اپنا ہدی کا جانور قربان کیجئے اور حل کروا کر حلال ہوجائیے۔ پھر لوگ ضرور (آپ کی اتباع میں یہ افعال کرکے) حلال ہوجائیں گے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدی کو نحر کیا، حلق کروایا اور حلال ہوگئے۔ پھر آپ کی اتباع میں اور لوگ بھی ایسا کرنے لگے رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔