12867- عن سنان بن عبد الله الجهني أن عمته حدثته أنها أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله إن أمي توفيت وعليها مشي إلى الكعبة نذرا؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أتستطيعين تمشين عنها؟ قالت: نعم، قال: فامشي عن أمك، قالت: أو يجزئ ذلك عنها؟ قال: نعم، قال: أرأيت لو كان عليها دين لرجل فقضيته هل كان يقبل منك؟ قالت: نعم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الله أحق بذلك. "ش وابن جرير".
12867 سنان بن عبداللہ الجہنی سے مروی ہے کہ ان کی پھوپھی نے ان کو بیان کیا کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میری ماں وفات پاچکی ہیں اور اس پر نذر تھی کہ وہ پیدل کعبہ کو جائیں گی ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو ان کی طرف سے پیدل جانے کی استطاعت رکھتی ہے ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی ماں کی طرف سے چلی جا۔ پھوپھی بولیں : کیا یہ میری ماں کے لیے کافی ہوجائے گا ؟ حضور نے فرمایا : ہاں۔ پھر پوچھا : کیا اگر اس پر کسی آدمی کا دین (قرض) ہوتا تو اس کو ادا کرتی تو وہ تیری طرف سے قبول کرلیا جاتا ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں۔ تب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر