12892- عن عبد الله بن عمر [وبن العاص] قال: وقف النبي صلى الله عليه وسلم بمنى في حجة الوداع يسألونه فجاء رجل فقال: يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح؟ قال: اذبح ولا حرج، وجاءه آخر فقال: ذبحت قبل أن أرمي قال: ارم ولا حرج، فما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال: اصنع ولا حرج. "ش خ م د ت ن هـ"
12892 عبداللہ بن عمرو (بن العاص) (رض) سے مروی ہے فرمایا : حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ میں ٹھہر گئے۔ لوگ آ آ کر سوالات کرتے رہے ایک آدمی آیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے ذبح کرنے سے قبل حلق کرالیا ؟ ارشاد فرمایا : ذبح کرلو اور کوئی حرج نہیں۔ دوسرا آدمی آیا اور عرض کیا : میں نے رمی سے قبل ذبح کرلیا ؟ ارشاد فرمایا : رمی کرلو اور کوئی حرج نہیں۔ پس اس دن کسی چیز کے بارے میں آگے پیچھے کرنے سے متعلق سوال نہیں کیا گیا مگر آپ نے ارشاد فرمایا : کرلو اور کوئی حرج نہیں۔
ابن ابی شیبہ ، البخاری ، مسلم ، ابن داؤد ، الترمذی ، النسائی ، ابن ماجہ