12898- عن عبد الرحمن بن أحمد بن عطية قال: سئل علي بن أبي طالب عن الوقوف بالجبل ولم لم يكن بالحرم؟ قال: لأن الكعبة بيت الله والحرم باب الله، فلما قصدوه وافدين أوقفهم بالباب يتضرعون قيل: يا أمير المؤمنين فالوقوف بالمشعر؟ قال: لأنه لما أذن لهم بالدخول وقفهم بالحجاب الثاني وهو المزدلفة فلما أن طال تضرعهم أذن لهم بتقريب قربانهم بمنى، فلما أن قضوا تفثهم وقربوا قربانهم، فتطهروا بها من
الذنوب التي كانت عليهم أذن لهم بالوفادة إليه على الطهارة، قيل: يا أمير المؤمنين فمن أين حرم الله الصيام أيام التشريق؟ قال: لأن القوم زوار الله وهم في ضيافته ولا يجوز لضيف أن يصوم دون إذن من أضافه، قيل: يا أمير المؤمنين، فتعلق الرجل بأستار الكعبة لأي معنى هو؟ قال: مثل الرجل بينه وبين آخر جناية فيتعلق بثوبه ويتنصل ويستجدي له ليهب له جنايته. "هب".
12898 عبدالرحمن بن احمد بن عطیہ سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے بوال کیا گیا کہ کیا بات ہے وقوف جبل (عرفات) پر رکھا گیا ہے حرم کے اندر کیوں نہیں رکھا گیا ؟ ارشاد فرمایا : کیونکہ کعبہ، اللہ کا گھر ہے اور حرم اللہ کا دروازہ ہے، جب لوگ بطور وفد اس کے گھر آنا چاہتے ہیں تو دروازہ پر کھڑے ہو کر آہ وزاری کرتے ہیں۔ پھر پوچھا : یا امیر المومنین ! مشعر (مزدلفہ) میں وقوف کیوں رکھا گیا ؟ فرمایا : جب اللہ نے ان کو اندر آنے کی اجازت دیدی تو پھر یہ دوسرا پردہ ہے یہاں ان کو روک لیا جاتا ہے پھر جب ان کی آہ وزاری بڑھ جاتی ہے تو ان کو اجازت دی جاتی ہے کہ منیٰ میں جاکر اپنی قربانیاں اللہ کی نذر کریں پھر جب قربانی وغیرہ کرکے اپنی میل کچیل کو دور کرلیتے ہیں تو وہاں یہ گناہوں سے پاک ہوجاتے ہیں جو ان پر چڑھے ہوئے تھے۔ پھر پاک صاف حالت میں ان کو اللہ پاک اپنے گھر آنے کی اجازت عطا فرما دیتا ہے۔ پوچھا گیا : یا امیر المومنین ! اللہ نے ایام تشریق کو کیوں حرام قرار دیا روزے رکھنے کے لیے ؟ فرمایا : آنے والے اللہ (کے گھر) کی زیارت کو آنے والے ہیں اور وہ اللہ کی مہمان نوازی میں ہوتے ہیں۔ اور کسی مہمان کے لیے میزبان کی اجازت کے سوا روزہ رکھنا جائز نہیں ۔ پوچھا گیا : اے امیر المومنین ! آدمی جو کعبہ کے پردے کو پکڑ کر چمٹ کر روتا ہے اس کے کیا معنی ہیں ؟ ارشاد فرمایا : جس طرح کسی آدمی سے دوسرے آدمی کا جرم ہوجائے تو وہ اس کے کپڑے پکڑ کر اس سے چمٹ چمٹ کر چاپلوسی کرکے اپنا جرم معاف کراتا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی