12916- عن معمر عن مطر [بن طهمان] الوراق عن شهر بن حوشب عن عمرو بن خارجة قال: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حجته فكنت تحت جران ناقته وإنها لتقصع2 بجرتها وإن لعابها ليسيل على كتفي فسمعته وهو يخطب بمنى: إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، وإنه ليس لوارث وصية ألا وإن الولد للفراش وللعاهر الحجر، من ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير ما أنعم الله به عليه - وفي لفظ - إلى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه صرف ولا عدل3 "ص وابن جرير عب".
12916 عن معمر عن مطر (بن طہمان) الوراق عن شہر بن حوشب عن عمرو بن خارجۃ، عمرو بن خارجہ کہتے ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کے حج کے موقع پر حاضر ہوا، میں آپ کی اونٹنی کے منہ کے نیچے تھا اور وہ جگالی کررہی تھی اور وہ جگالی کرتی تھی تو اس کا تھوک میرے کندھوں پر گرتا تھا ۔ میں نے آپ کو مقام منیٰ میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دیدیا ہے اب کسی وارث کے لیے وصیت کا اختیار باقی نہ رہا۔ آگاہ رہو ! اولاد صاحب بستر کی ہے اور بدکار کے لیے پتھر ہیں۔ جس نے غیر باپ کی طرف اپنے کو منسوب کیا یا غیر حاصل شدہ نعمت کا اظہار کیا۔ اور دوسرے الفاظ روایت میں یا غیر آقاؤں کی طرف اپنی نسبت کی تو اس پر اللہ کی لعنت ہے اور ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کا کوئی فرمان قبول ہے اور نہ نفل۔ السنن لسعید بن منصور، ابن جریر، الجامع لعبد الرزاق