13283- لا تشربوا في الدباء والمزفت ولا في النقير، وانتبذوا في الأسقية فإن اشتد في الأسقية فصبوا عليه الماء، إن الله حرم الخمر والميسر والكوبة، وكل مسكر حرام. "حم د عن ابن عباس"
13283 دباء ، مزفت اور نقیر میں نہ پیو۔ دوسرے برتنوں میں نبیذ بناسکتے ہو۔ اگر برتنوں میں نبیذ تیز ہوجائے تو اس پر پانی مارو۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے شراب، جو اور شطرنج حرام قرار دی ہے اور ہر نشہ آور شے حرامے۔ مسند احمد، ابوداؤدعن ابن عباس (رض)
فائدہ : دباء کدو کو کھوکھلا کرکے بنایا گیا برتن، مزفت تار کول ملا ہو مٹی کا برتن اور نقیر کھجور کی جڑ کو اندر سے کھوکھلا کرکے بنایا گیا تربن، عرب میں زمانہ جاہلیت کے لوگ ان برتنوں میں شراب بنایا کرتے تھے ان برتنوں میں شراب بنایا کرتے تھے ان برتنوں میں شراب کا مزاج تیز ہوجاتا تھا۔ جب حرمت خمر نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان برتنوں کو نبیذ اور دیگر جائز مشروبات اور مطعومات کے لیے بھی ممنوع قرار دیا تاکہ شراب کی حرمت دلوں میں اچھی طرح راسخ ہوجائے۔ پھر جب لوگوں نے شراب کی حرمت کو اچھی طرح جان لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان برتنوں کے استعمال کی حرمت اٹھالی جیسا کہ آئندہ احادیث میں آرہا ہے۔
نبیذ کھجور اور انگور وغیرہ سے میٹھا کیا ہوا پانی جو اصلاً حلال اور جائز ہے لیکن اگر انگور اس قدر پانی میں چھوڑا جائے جس سے اس میں جوش پیدا ہوجائے تو اس کا پینا مکروہ ہے اور اگر اس کے پینے سے سرور اور نشہ کی کیفیت پیدا ہوجائے تو اس کا پینا حرام ہے۔