hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 13326

.

كنز العمال

13326
Kanz al-Ummal
13326- من أصاب بفيه من ذي حاجة غير متخذ خبنة2 فلا شيء عليه، ومن خرج بشيء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة، ومن سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع، ومن سرق دون ذلك فعليه غرامة مثليه والعقوبة. "د ت حسن ن عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن الثمر المعلق قال فذكره"
13326 جو کوئی حاجت مند درخت سے چرا کر کھجور کھالے اور اپنے ساتھ نہ لے کر جائے اس پر کوئی تاوان نہیں۔ اور جو اپنے ساتھ لے کر جائے اس پر اس سے دگنی کھجوریں بطور تاوان اور سزا ہے اور جو اس جگہ سے چرا ہے جہاں مالک نے درخت سے اتار کر (سکھانے کے لیے یا محفوظ کرنے کے لئے) رکھی ہیں، اگر ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور جو اس سے کم چرائے اس پر دگنی کھجوریں اور سزا ہے۔
ابوداؤد، الترمذی حسن، النسائی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ لٹکی ہوئی کھجوریں چرانے پر کیا سزا ہے ؟ تو آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
ڈھال کی قیمت کا اندازہ دس درہم سے کیا گیا ہے یعنی تقریباً ڈھائی تین تولہ چاندی کی قیمت میں قطع الید ہوگا۔