13342- من أصاب بفيه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شيء عليه ومن خرج بشيء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة، ومن سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع، ومن سرق دون ذلك فعليه غرامة مثليه والعقوبة. "د ت حسن ن عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن الثمر المعلق قال فذكره2
13342 جو حاجت مند (درختوں پر معلق پھل) صرف کھائے اور اپنے ساتھ لے کر نہ جائے تو اس پر کوئی حد (یا سزا) نہیں۔ جو اپنے ساتھ لے کر نکلے اس پر اس کی دگنی تاوان اور سزا ہے۔ اور جبکہ مالک پھل اپنے محفوظ ٹھکانے پر لے جائے تو اگر کوئی چرائے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے اس پر قطع الید ہے اور جو اس سے کم چرائے اس پر اس کی دگنی تاوان اور سزا ہے۔
ابوداؤد، الترمذی، حسن النسائی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معلق پھل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔