13434- عن ابن عباس قال: من قتل أو سرق في الحل ثم دخل الحرم فإنه لا يجالس ولا يكلم ولا يووي ويناشد حتى يخرج فيقام عليه ومن قتل أو سرق فأخذ في الحل فأدخل الحرم فأرادوا أن يقيموا عليه ما أصاب أخرجوه من الحرم إلى الحل، وإن قتل في الحرم أو سرق أقيم في الحرم. "عب".
13434 ابن عباس (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جس نے حل قتل کیا یا چوری پھر وہ حرم میں داخل ہوگیا (جہاں اس پر حد جاری نہیں کی جاسکتی) تو وہاں اس کے ساتھ کوئی اٹھے بیٹھے اور نہ بات چیت کرے اور نہ ہی اس کو کوئی ٹھکانا دے اور اس کا اعلان کیا جاتا رہے حتیٰ کہ وہ وہاں سے نکل جائے۔ پھر اس پر حد قائم کی جائے۔ اور جس نے کوئی قتل کیا یا چوری کی پھر اس کو حل میں پکڑ لیا گیا اور حرم میں داخل کردیا گیا پھر وہاں حرم میں اس پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیا گیا تو پہلے اس کو حرم سے حل لایا جائے۔ ہاں اگر اس نے حرم میں ہی قتل کیا ہو یا چوری کی ہو تو وہیں اس پر حد قائم کی جائے گی۔ المصنف لعبد الرزاق