13440- عن طاوس قال: قيل لصفوان بن أمية وهو بأعلى مكة: لا دين لمن لم يهاجر، فقال: والله لا أصل إلى أهلي حتى آتي المدينة، فأتى المدينة فنزل على العباس فاضطجع في المسجد وخميصته تحت رأسه فجاء سارق فسرقها من تحت رأسه فأتى به النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن هذا سارق فأمر به فقطع فقال: هي له، فقال: هلا قبل أن تأتيني به. "ش".
13440 طاؤس (رح) سے مروی ہے کہ صفوان بن امیہ ایک دفعہ مکہ کی بالائی وادی میں تھا اس کو کسی نے کہا : لا دین لمن لم یھاجر
جس نے ہجرت نہیں کی اس کا کوئی دین نہیں۔
تب صفوان نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنے گھر نہ لوٹوں گا جب تک مدینہ جاؤں ۔ چنانچہ وہ مدینہ تشریف لائے اور وہاں حضرت عباس (رض) کے ہاں اترے پھر (رات کو) مسجد میں سوئے سوتے وقت ان کی قمیص ان کے سر کے نیچے تھی۔ ایک چور آیا اور اس نے ان کے سر کے نیچے سے وہ قمیص چرالی۔ صفوان اس چور کو لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : یہ چور ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا جو کاٹ دیا گیا۔ صفوان نے عرض کیا : یہ چادر اسی کو دیتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس کو میرے پاس لانے سے قبل کیوں نہ دے دی۔ ابن ابی شیبہ