13454- عن ابن عمر قال: بينما أبو بكر في المسجد جاء رجل وهو دهش فقال أبو بكر: قم إليه فانظر في شأنه فإن له شأنا، فقام إليه عمر فقال: إنه ضافه ضيف فوقع بابنته، فصك عمر في صدره وقال: قبحك الله ألا سترت على ابنتك فأمر بهما أبو بكر فضربا الحد، ثم زوج أحدهما بالآخر وأمر بهما فغربا عاما. "ق"
13454 ابن عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : ابوبکر (رض) مسجد میں تشریف فرما تھے۔اس دوران ایک آدمی بڑی پریشانی کے عالم میں اندر آیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کے پاس جاؤ دیکھو اس کو کیا پریشانی ہے۔ (چنانچہ حضرت عمر (رض)) اٹھ کر اس آدمی کے پاس گئے۔ آدمی نے اپنی بپتا سنائی کہ اس نے ایک آدمی کی مہمان نوازی کی۔ وہ مہمان اس کی بیٹی کے ساتھ بدکاری کر بیٹھا ہے۔ حضرت عمر (رض) آدمی کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اللہ تیرا برا کرے۔ تو نے اپنی بیٹی پر پردہ کیوں نہ ڈالا ؟ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے دونوں کے لیے حکم دیا۔ چنانچہ دونوں پر حد جاری کی گئی۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ شادی کردی۔ پھر ان کو ایک سال کی چلاوطنی کا حکم دیا۔ السنن للبیہقی