13494- عن سماك بن حرب عن رجل من بني عجل قال: كنت مع علي بصفين، فإذا رجل بزرع ينادي أني قد أصبت فاحشة فأقيموا علي الحد فقال له علي: هل تزوجت؟ قال: نعم قال: قد دخلت بها؟ قال: لا، فبعث إلى أهل المرأة، هل زوجتم فلانا؟ قالوا: والله ما كنا نرى به بأسا، قال فحده مائة وأغرمه نصف الصداق2 وفرق بينهما. "أبو عبد الله الحسن بن يحيى بن عياش القطان في حديثه ق".
13494 سماک بن حرب بنی عجل کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ صفین میں حضرت علی (رض) کے ساتھ تھا ، وہاں ایک آدمی کھیتوں میں کھڑا افسوس کے ساتھ پکاررہا تھا مجھ سے فحش کام سرزد ہوگیا ہے۔ مجھ پر حد جاری کردو۔ حضرت علی (رض) نے اس پوچھا : کیا تو نے شادی کررکھی ہے ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ پوچھا : کیا اس کے ساتھ ہم بستر ہوا ہے ؟ اس نے انکار میں جواب دیا۔ پھر آپ (رض) نے (جس) عورت (کے ساتھ بدکاری ہوئی تھی اس) کے گھر والوں کے پاس پیغام بھیج کر دریافت کرایا کیا تم : فلاں آدمی سے اپنی لڑکی کی شادی پر راضی ہو ؟ انھوں نے کہا : ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ تب آپ (رض) نے آدمی پر سو کوڑے حد جاری کی اور اس پر پہلی بیوی کے لیے نصف مہر دینا لازم کیا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
ابوعبداللہ الحسن بن یحییٰ بن عباش القطان فی حدیثہ، السنن للبیہقی