13497- عن قسامة بن زهير قال: لما كان من شأن أبي بكرة والمغيرة الذي كان، ودعا الشهود فشهد أبو بكرة وشهد ابن معبد ونافع بن عبد الحارث فشق على عمر حين شهد هؤلاء الثلاثة، فلما قام زياد قال عمر: إني أرى غلاما كيسا لن يشهد إن شاء الله إلا بحق، قال زياد: أما الزنا فلا أشهد به، ولكن قد رأيت أمرا قبيحا، قال عمر: الله أكبر حدودهم فجلدوهم فقال أبو بكرة: أشهد أنه زان، فهم عمر أن يعيد عليه الحد فيها، فنهاه علي وقال: إن جلدته فارجم صاحبك فتركه ولم يجلده. "هق"
13497 قسامۃ بن زھیر سے مروی ہے کہ جب ابوبکرۃ اور مغیرہ کا واقعہ پیش آیا۔ ابوبکرۃ نے مغیرہ پر زنا کی تہمت لگائی تو گواہ بلائے گئے۔ سب سے پہلے ابوبکرۃ نے گواہی دی۔ پھر (شبل) ابن معبد اور نافع بن عبدالحارث نے بھی گواہی دیدی (جب چوتھے گواہ کی باری آئی جس کے بعد مغیرہ پر زنا کی حد جاری ہوجاتی) تو حضرت عمر (رض) کو شاق گزرا۔ چنانچہ جب زیاد گواہی کے لیے اٹھا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : انشاء اللہ کسی غلام حق کے سوا ہرگز کوئی گواہی نہ دے گا۔ چنانچہ زیاد بولا : میں زنا کی گواہی تو نہیں دیتا لیکن میں نے پھر بھی ایک بری بات دیکھی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے نعرہ بلند کیا اللہ اکبر، پھر حکم دیا (تین) گواہوں کو (تہمت کی بناء پر) حد جاری کرو۔ چنانچہ تینوں پر حد جاری کی گئی۔
ابوبکرۃ نے حد کھانے کے بعد پھر کہا میں اب بھی شہادت دیتا ہوں کہ وہ (مغیرہ) زانی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو دوبارہ تہمت کی حد جاری کرنے کا ارادہ کیا لیکن حضرت علی (رض) نے منع فرمادیا کہ اگر آپ نے اس کو تہمت کی حد جاری کرنا ہے تو اپنے ساتھی (مغیرہ) کو بھی رجم (سنگسار) کرو۔ آخر حضرت عمر (رض) نے ابوبکر کو چھوڑ دیا اور دوبارہ حد جاری نہ فرمائی۔ السنن للبیہقی