1351 – "يا أخا تنوخ أني كتبت بكتاب إلى كسرى فمزقه والله يمزقه ويمزق ملكه وكتبت إلى النجاشي بصحيفة فخرقها والله مخرقه ومخرق ملكه وكتبت إلى صاحبك بصحيفة فأمسكها فلن يزال الناس يجدون منه بأسا ما دام في العيش صفوة". (حم عن التنوخي رسول هرقل) .
١٣٥١۔۔ اے برادر تنوخ ! میں نے کسری کو خط لکھا تھا مگر اس نے اس کو پھاڑ ڈالا، اب اللہ اس کو اور اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے گا، اور میں نے شاہ نجاشی کو دعوت نامہ لکھا اس نے بھی پھاڑ ڈالا، اللہ اس کو اور اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے گا، اور اے تنوخ، میں نے تیرے ساتھی ھرقل کو بھی ایک دعوت نامہ لکھا تھا اس نے اس کو محفوظ رکھا، سو جب تک زندگی میں اچھائی کو اختیار کیے رکھے گا لوگ مسلسل اس سے جنگ کی حالت میں پائیں گے۔ مسنداحمد، بروایت التنوخی قاصد ھرقل۔
حدیث میں جس نجاشی کا تذکرہ ہے یہ دوسرانجاشی ہے اس سے پہلے نجاشی جس کا نام ، اصحمہ ، تھا حضورپر ایمان لے آیا تھا اسی نے مسلمانوں کو پناہ میسر کی تھی اور اسی کی حضور نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی۔