hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 13510

.

كنز العمال

13510
Kanz al-Ummal
13510- عن ابن جريج عن عمرو بن شعيب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قد قضى الله ورسوله أن شهد أربعة على بكرين جلدا كما قال الله تعالى: {مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ} "، وغربا سنة غير الأرض التي كانا بها، وتغريبهما سنتي وقال: إن أول حد أقيم في الإسلام لرجل أتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم فشهد عليه فأمر به النبي صلى الله عليه وسلم أن يقطع، فلما حد الرجل نظر إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم كأنما سف1 فيه الرماد، فقالوا: يا رسول الله كأنه اشتد عليك قطع هذا؟ قال: وما يمنعني وأنتم أعوان الشيطان على أخيكم قالوا: فأرسله قال: فهلا قبل أن تأتيني به، إن الإمام إذا أتي له بحد لا ينبغي له ان يعطله. "عب".
13510 ابن جریج عمرو بن شعیب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے فیصلہ کردیا ہے کہ اگر وہ کنوارے مرد عورت آپس میں زنا کریں اور ان پر چار مرد گواہی دیدیں تو حکم خداوندی :
مائۃ جلدۃ ولا تاخذ کم بھما رافۃ فی دین اللہ
یعنی سوکوڑے اور ان کے ساتھ نرمی تم کو اللہ کے دین میں نہ پکڑے۔
اور بموجب میری سنت کے ان کو ایک سال کے لیے ان کے اس وطن سے نکال دیا جائے جہاں وہ رہتے ہوں۔ اور ارشاد فرمایا ان کو جلاء وطن کرنا میری سنت ہے۔
عمرو بن شعیب فرماتے ہیں : پہلی حد جو اسلام میں ایک آدمی پر جاری کی گئی اسی کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیش کرکے اس پر شہادت لی گئی۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کا ہاٹھ کاٹ دیا گیا۔ جب اس پر حد جاری ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو دیکھا گیا گویا آپ کے چہرے پر مٹی ڈال دی گئی ہو۔ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! شاید اس آدمی کا ہاتھ کٹنا آپ کو دشوار گزرا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے کیوں نہ دشوار گزرتا جبکہ تم اپنے بھائی کے مقابلے پر شیطان کے مددگار بن کر آئے ہو۔ لوگوں نے عرض کیا تب آپ اس کو چھوڑ دیتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام (حاکم) کے پاس جب حد آئے گی تو اس کو حد معطل کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں۔ الجامع لعبد الرزاق