13513- عن ابن عباس قال: خطب عمر فذكر الرجم فقال: لا تخدعن عنه فإنه حد من حدود الله، ألا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد رجم ورجمنا بعده، ولولا أن يقول قائلون: زاد عمر في كتاب الله ما ليس منه لكتبت في ناحية المصحف، شهد عمر بن الخطاب وعبد الرحمن بن عوف وفلان وفلان أن رسول الله قد رجم ورجمنا بعده، ألا وإنه سيكون بعدكم قوم يكذبون بالرجم وبالدجال وبالشفاعة وبعذاب القبر وبقوم يخرجون من النار بعد ما امتحشوا "حم ع وأبو عبيد".
13513 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ دیا اور رجم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ہرگز دھوکا میں نہ پڑنا رجم کے بارے میں۔ بیشک وہ حدود اللہ میں سے ایک حد ہے۔ خبردار ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں ضرور قرآن پاک کے حاشیے میں لکھوا دیتا :
عمر بن خطاب، عبدالرحمن بن عوف، فلاں اور فلاں اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔
خبردار ! عنقریب تمہارے بعد ایک قوم آئے گی جو تکذیب کرے گی رجم کی، دجال (کے خروج) کی، شفاعت کی، عذاب قبر کی اور اس قوم کی جس کو اللہ پاک جہنم سے ان کے جلنے کے بعد نکالے گا ۔ مسند احمد، مسند ابی یعلی، ابوعبید
فائدہ : حدیث میں امتحثوا کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہیں اس قدر جل کر ہڈیاں ظاہر ہوجائیں۔ انبیاء 302/4 ۔