13526- عن قابوس بن مخارق أن محمد بن أبي بكر كتب إلى علي يساله عن مسلمين تزندقا وعن مسلم زنى بنصرانية وعن مكاتب مات وترك بقية من كتابته، وترك ولدا أحرارا، فكتب إليه علي، أما اللذان تزندقا فإن تابا وإلا فاضرب أعناقهما، وأما المسلم فأقم عليه الحد وادفع النصرانية إلى أهل ذمتها، وأما المكاتب فيؤدي بقية كتابته، وما بقي فلولده الأحرار. "الشافعي ش هق".
= وأخرجه ابن سعد بلفظه في الطبقات الكبرى "3/334"، واستدركت منه هذه الفقرة للإتضاح: [لا نحد حدين] . ص.
13526 قابوس بن مخارق سے مروی ہے کہ محمد بن ابی مکر نے حضرت علی (رض) کے پاس عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے ؟ ایک مکاتب (اپنی آزادی کی قیمت ادا کرنے والا) مرگیا ہے اور اپنی کتابت (آزادی) کا عوض چھوڑ کر گیا ہے اور چند آزاد لڑکے اولاد میں چھوڑے ہیں ؟
چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس کے سوالوں کے جواب میں لکھا :
جو دو مسلمان مرتد ہوگئے ہیں اگر وہ توبہ تائب ہوجائیں تو ٹھیک ورنہ ان کی گردن اڑادو۔ جس مسلمان نے نصرانی عورت کے ساتھ زنا کرلیا ہے اس پر حد جاری کرو جبکہ نصرانی عورت کو اہل ذمہ کے پسرد کردو اور مکاتب کا بدل کتابت ادا کرو، پھر جو مال باقی بچ جائے اس کو اس کی اولاد کے حوالے کردو۔ الشافعی، المصنف لا بن ابی شیبہ، السنن للبیہقی