13538- وعنه قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بماعز بن مالك، رجل قصير في إزار ما عليه رداء ورسول الله صلى الله عليه وسلم متكئ على وسادة على يساره يكلمه، وما أدري وأنا بعيد بيني وبينه القوم فقال: اذهبوا به، ثم قال: ردوه فكلمه وأنا أسمع غير أن بيني وبينه القوم، ثم قال: اذهبوا به فارجموه، ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فقال: أو كلما نفرنا في سبيل الله خلف أحدهم له نبيب1 من اللبن، والله لا أقدر على أحدهم إلا نكلت به. "ط عب حم م د"
13538 جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ماعز بن مالک کو لایا گیا۔ وہ ایک کوتاہ قامت شخص تھے اور صرف بدن کے نچلے حصے پر ازار باندھے ہوئے تھے۔ بالائی جسم پر کوئی چادر وغیرہ یا کپڑا نہ تھا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکیہ پر بائیں کروٹ کی ٹیک لگائے ہوئے تھے اور ماغر سے بات چیت کررہے تھے۔ لیکن میں چونکہ بالکل آخری سرے پر تھا، میرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کافی لوگ تھے اس لیے میں بات چیت کو سن نہیں پارہا تھا (پھر میں نے اتنا سنا) آپ نے فرمایا : اس کو لے جاؤ۔ پھر فرمایا : واپس لاؤ۔ پھر اس سے کچھ بات چیت فرمائی جو میں سن نہ پایا پھر فرمایا : اس کو لے جاؤ اور سنگسار کردو۔
پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا :
فرمایا : کیا جب بھی ہم جہاد کے لیے سفر پر جائیں گے ان میں سے کوئی پیچھے ضرور رہے گا تاکہ مینڈھے کی طرح (شدت شہوت سے) بلبلاتا پھرے اور کسی عورت کا دودھ کا ایک برتن بھر کردے کر اپنی خواہش پوری کرے گا۔ اللہ کی قسم ! میں جب بھی کسی ایسے شخص پر قادر ہوا اس کو عبرت ناک سزا دوں گا ۔ الدارقطنی فی السنن، الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، مسلم، ابوداؤد