13550- عن عمران بن حصين أن امرأة من جهينة اعترفت عند النبي صلى الله عليه وسلم بالزنا، قالت: أنا حبلى، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم وليها فقال: أحسن إليها، فإذا وضعت فأخبرني، ففعل فأمر بها النبي صلى الله عليه وسلم فشدت عليها ثيابها ثم أمر بها فرجمت، ثم صلى عليها، فقال عمر: يا رسول الله رجمتها ثم تصلي عليها؟ فقال: لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من أهل المدينة لوسعتهم، وهل وجدت شيئا أفضل من جادت بنفسها لله. "عب حم م د ن"1
13550 عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس زنا کا اعتراف کیا اور بتایا کہ میں حمل سے ہوں۔ حضور نبی کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا اس کے ساتھ نیک سلوک رکھو، جب یہ بچہ جن لے تو مجھے بتانا چنانچہ اس نے حکم کی تعمیل کی۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور اس کے کپڑے اس کے جسم پر باندھ دیئے گئے (کہیں دوران رجم کھل نہ جائیں اور بےپردگی نہ ہوجائے) پھر حکم دیا اور اس کو رجم کردیا گیا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ایک تو آپ نے اس کو رجم کیا پھر اس پر نماز بھی پڑھتے ہیں ؟ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس نے ایسی (سچی) توبہ کی ہے کہ اگر ستر اہل مدینہ کے درمیان بھی تقسیم کردی جائے تو سب کو کافی ہوجائے گی۔ کیا تم نے اس سے افضل چیز دیکھی ہے کہ اس نے اللہ کے لیے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔
الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، مسلم، ابوداؤد، النسائی