13559- عن عبيد بن عمير أن امرأة زنت فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقال لها: أحامل أنت؟ قالت: نعم فقال: اذهبي فإذا وضعت فأتيني، فلما وضعته جاءته فقال: اذهبي فأرضعيه، وإذا فطمتيه فأتيني، فلما فطمته جاءته، قال: اذهبي فاستودعيه، ثم أتيني فذهبت فاستودعته، ثم جاءته فأمر برجمها فرجمت فسبها بعض من كان عنده، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أتسبون امراة لم تزل مجاهدة نفسها حتى أدت الذي عليها. "عب ن".
13559 عبید بن عمیر (رح) سے مروی ہے کہ ایک عورت سے زنا سرزد ہوگیا۔ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی۔ آپ نے اس پوچھا کیا تو حمل سے ہے ؟ عورت نے اثبات میں جواب دیا۔ آپ نے فرمایا : تب تو جا اور جب بچہ جن لے تب آنا۔ چنانچہ وہ عورت بچے کا دودھ چھڑانے کے بعد پھر حاضر خدمت ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جا اس بچے کو کسی کے سپرد کرکے آ۔ چنانچہ وہ بچہ کسی کے حوالہ کرکے پھر حاضر خدمت ہوئی۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس کو رجم کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضرین میں سے کسی نے اس عورت کو برا بھلا کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم ایسی عورت کو برابھلا کہتے ہو جو مسلسل اپنے نفس سے جہاد کرتی رہی حتیٰ کہ اپنے ذمے خدا کے حکم کو ادا کردیا۔
الجامع لعبد الرزاق ، النسائی