hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1357

.

كنز العمال

1357
Kanz al-Ummal
1357 – "عن محارب بن دثار عن عمر قال: " بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا أتاه رجل أبيض الثياب طيب الريح فوضع يده على ركبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ما الإيمان قال أن تؤمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين والجنة والنار وبالقدر خيره وشره قال فإذا فعلت ذلك فأنا مؤمن؟ قال نعم قال صدقت فتعجبنا من قوله لرسول الله صلى الله عليه وسلم صدقت، قال: فما الإسلام قال تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج البيت وتصوم رمضان وتغتسل من الجنابة قال فإذا فعلت ذلك فأنا مسلم قال نعم، قال: صدقت فتعجبنا من قوله لرسول الله صلى الله عليه وسلم صدقت، قال: فما الإحسان قال تعمل لله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك قال: صدقت، قال: فمتى الساعة قال ما المسؤول عنها بأعلم من السائل قال صدقت، ثم أدبر وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بالرجل فالتمسوه فلم يقدروا عليه فقال هذا جبرئيل جاءكم ليريكم دينكم وما أتاني في صورة قط إلا عرفته قبل مرتي هذه". (رسته في الإيمان) .
١٣٥٧۔۔ محارب بن دثار ، حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا، ہم حضور کے پاس حاضر خدمت تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک سفید لباس میں ملبوس ، عمدہ خوشبو میں بسا ہوا شخص حاضر ہوا، اور اس نے آکر اپنا ہاتھ حضور کے گھٹنوں پر رکھ کر بیٹھتے ہوئے کہا، ایمان کیا ہے، یارسول اللہ فرمایا یہ کہ تم اللہ پر یوم آخرت پر، ملائکہ پر کتاب اللہ پرا اور انبیاء پر ایمان لاؤ، نیز جنت اور جہنم پر ایمان لاؤ، اور اس بات پر ایمان لاؤ کہ تقدیر اچھی اور بری برحق ہے سائل نے عرض کیا اگر میں ایسا کرلوں تو کیا میں مومن ہوجاؤں گا، ؟ فرمایا بالکل۔ سائل نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ اس پر ہم کو تعجب ہوا کہ وہ شخص سائل ہونے کے باوجود آپ کی تصدیق کررہا ہے۔ سائل نے پھر سوال کیا اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، جنابت سے غسل کرو، سائل نے عرض کیا تو کیا میں ان افعال کی ادائیگی کے بعد مسلمان ہوجاؤں گا۔ فرمایا بالکل ۔ سائل نے پھر سوال کیا : احسان کیا چیز ہے ؟ فرمایا تم اللہ کے لیے یوں عمل کرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو۔۔ پس اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے وہ تویقینا تمہیں دیکھ ہی رہا ہے سائل نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر سوال کیا، وقوع قیامت کب ہوگا ؟ فرمایا اس کے متعلق مسوئل سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا، سائل نے کہا، آپ نے سچ فرمایا، پھر سائل منہ موڑ کر چل دیا، آپ نے فرمایا سائل کو میرے پاس حاضر کرو اور اس کو تلاش کرو لیکن اصحاب رسول پر اس پر قادر نہ ہوسکے۔ تب آپ نے فرمایا، یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے تمہیں تمہارا دین سمجھانے آئے تھے اور سوائے اس مرتبہ کے اس سے قبل جب بھی کسی صورت میں میرے پاس تشریف لائے میں نے ان کو پہچان لیا۔ رسہ فی الایمان۔