13596- عن أبي الضحى أن امرأة أتت عمر فقالت: إني زنيت فارجمني فرددها، حتى شهدت أربع شهادات فأمر برجمها، فقال علي: يا أمير المؤمنين ردها فاسألها ما زناها لعل له عذرا؟ فردها فقال: ما زناك؟ قالت: كان لأهلي إبل فخرجت في إبل أهلي، فكان لنا خليط2 فخرج في إبله فحملت معي ماء ولم يكن في إبلي لبن، وحمل خليطنا ماء وكان في إبله لبن فنفد مائي فاستسقيته فأبى أن يسقيني حتى أمكنه من نفسي فأبيت حتى كادت نفسي تخرج أعطيته، فقال علي: الله أكبر، فمن اضطر غير باغ ولا عاد، أرى لها عذرا. "البغوي في نسخة نعيم بن الهيثم".
13596 ابوالضحیٰ سے مروی ہے کہ ایک عورت حضرت عمر (رض) کے پاس آئی اور بولی : میں نے زنا کیا ہے ! لہٰذا مجھے رجم کر دیجئے۔ آپ (رض) نے اس کو واپس کردیا حتیٰ کہ اس نے چار مرتبہ اپنے خلاف گواہی دے دی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کے رجم کا حکم دیدیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یا امیر المومنین اس عورت کو واپس بلائیں اور اس سے اس کے زنا کی حقیقت کے بارے میں سوال کریں شاید اس کے پاس کوئی عذر ہو ؟ حضرت عمر (رض) نے اس کو واپس بلوایا۔ پوچھا : تیرے ساتھ کیسے زنا ہوا ؟ عورت نے کہا : میرے گھر کے اونٹ تھے، میں ان کے پاس گئی، ہمارا ایک شریک تھا وہ بھی اپنے اونٹوں میں آنکلا۔ میں اپنے ساتھ پانی لے گئی تھی، میرے اونٹوں میں کوئی دودھ والا جانور بھی نہ تھا۔ ہمارا شریک بھی پانی لایا تھا اور اس کے تو اونٹوں میں بھی دودھ والے جانور تھے۔ میرا پانی ختم ہوگیا۔ میں نے اس سے پانی مانگا، مگر اس نے پانی دینے سے انکار کردیا مگر اس شرط پر کہ میں اس کو اپنے وجود پر قدرت دوں۔ لیکن میں نے (اس طرح پانی لینے سے) انکار کردیا لیکن پھر (شدت پیاس سے) میری جان نکلنے کے قریب ہوگئی تو میں نے اس کی بات مان لی۔
پھر حضرت علی (رض) نے اللہ اکبر کا نعرہ مارا اور فرمایا :
فمن اضطرغیر باغ ولا عاد ۔ الآیۃ
جو مجبور ہوگیا نہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا تھا اور نہ دوبارہ کرنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
فرمایا : لہٰذا میں اس کو معذور سمجھتا ہوں۔ البغوی فی نسحۃ نعیم بن الھیثم