13628- عن محمد بن سيرين أن بريدا قدم على عمر فنثر كنانته2 فبدرت صحيفة فأخذها فقرأها فإذا فيها:
ألا أبلغ أبا حفص رسول ... فدى لك من أخي ثقة إزاري
قلائصنا هداك الله إنا ... شغلنا عنكم زمن الحصار
فما قلص وجدن معقلات ... قفا سلع بمختلف التجار
قلائص من بني كعب بن عمرو ... وأسلم أو جهينة أو غفار
يعقلهن جعدة من سليم ... غوي يبتغي سقط العذار
فقال: ادعو [لي] جعدة بن سليم فدعى به فجلده مائة جلدة معقولا ونهاه أن يدخل على امرأة مغيبة. "ابن سعد والحارث"
13628 محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ ڈاکیہ (قاصد) حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اس نے اپنا ترکش کھولا تو اس میں سے ایک کاغذ نکل کر گرپڑا جس میں چند اشعار لکھے تھے :
ترجمہ : سن ! اے قاصد ابوحفص کو یہ خبر پہنچا دے ! تجھ پر میرا بھائی قربان ہو جو مضبوط ازاروالا (پاکدامن) ہے۔ اللہ آپ کو ہدایات بخشے ، ہم تو جنگ کے زمانے میں تم سے دور رہتے ہیں اور ہماری اونٹنیاں ، حالانکہ وہ بندھی ہوئی ہیں۔ پھر مختلف تجار سامان فروختگی کے بہانے ان کے پاس آتے جاتے ہیں ، وہ اونٹنیاں بنی کعب بن عمرو، اسلم، جہینہ اور قبیلہ غفار کی ہیں۔ ان کو جعدہ بن سلیم گمراہ باندھنے کی کوشش کرتا ہے وہ ان کی دوشیزگی ختم کرنا چاہتا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے یہ خط پڑھ کر جعدہ بن سلیم کو بلایا اور اس کو باندھ کر سو کوڑے مارے اور آئندہ کے لیے اس کو کسی عورت کے پاس جس کا شوہر موجود نہ ہو ، جانے سے قطعاً روک دیا۔
ابن سعد ، الحارث