hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1364

.

كنز العمال

1364
Kanz al-Ummal
1364 - عن أبي موسى قال: " أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل في صورة أعرابي ورسول الله صلى الله عليه وسلم لا يعرفه فقال يا محمد ما الإيمان قال أن تؤمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين والبعث بعد الموت والقدر خيره وشره، قال فإذا فعلت ذلك؟ فأنا مؤمن؟ قال نعم قال: صدقت، قال فما الإسلام قال أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج البيت وتصوم شهر رمضان قال فإذا فعلت ذلك فأنا مسلم؟ قال نعم قال صدقت، قال فما الإحسان قال أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فهو يراك قال صدقت ثم انصرف فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم يطلب الرجل فلم يقدر عليه فقال النبي صلى الله عليه وسلم هذا جبرئيل جاءكم يعلمكم دينكم وفي لفظ أمر دينكم". (كر) .
١٣٦٤۔۔ حضرت ابوموسی سے مرو ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ایک اعرابی کی صورت میں رسول اکرم کے پاس تشریف لائے رسول اکرم اس صورت میں ان کو پہچان نہ سکے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : اے محمد ! ایمان کیا ہے ؟ فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر یوم آخرت پر ملائکہ پر کتاب اللہ پر، نبیوں پر اور بعث بعد الموت پر ایمان لاؤ، نیز اچھی بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے عرضک یا اگر میں ان پر ایمان لے آؤں تو کیا میں مومن ہوجاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا بالکل ، جبرائیل نے کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر استفسار کیا اسلام کیا ہے ؟ یہ کہ تم لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، کی شہادت دو ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا، اگر میں ان کو بجالاؤں تو کیا میں مسلمان ہوجاؤں گا، ؟ آپ نے فرمایا بالکل ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر استفسار کیا احسان کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت یوں کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔۔ پس اگر یہ کیفیت نہیں حاصل ہوتی اور تم اللہ کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تویقینا تمہیں دیکھ رہا ہے جبرائیل نے کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر جبرائیل لوٹ گئے اور ابوہریرہ (رض) ان کی تلاش میں نکل پڑے مگر نہ پاسکے۔ پھر آپ نے فرمایا یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے۔ تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے بمطابق دوسری روایت کے تمہیں تمہارا امردین سکھانے آئے تھے۔ کرر۔