13678- عن عبيد بن عمير قال: إنما كان الشارب يضرب في عهد النبي صلى الله عليه وسلم يصكونه1 بأيديهم ونعالهم، حتى إذا كان عمر خشى أن يغتال الرجل فضربه أربعين، فلما رآهم لا ينتهون ضرب ثمانين، ثم وقف وقال: هذا أدنى الحدود. "ابن جرير".
13678 حضرت عبید بن عمیر (رح) سے مروی ہے فرمایا : عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں مے نوش کو (حکم نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) لوگ اس کو تھپڑوں اور جوتوں سے مارلیتے تھے۔ جب حضرت عمر (رض) کا دور آیا تو اس بات کا ڈر ہوا کہ کہیں اس طرح آدمی ہلاک نہ ہوجائے چنانچہ صرف چالیس کوڑے مارنے پر اکتفا کیا گیا۔ لیکن جب دیکھا کہ اتنی سزا سے لوگ شراب نوشی سے باز نہیں آتے تو حضرت عمر (رض) نے (صحابہ کرام (رض)) کے مشورہ کے مطابق اسی کوڑے مارنے شروع کیے۔ پھر اسی پر عمل جاری رکھا اور فرمایا : یہ ادنیٰ ترین حد ہے۔ ابن جریر
فائدہ : حدجاری کرنے میں ہاتھ اتنا اوپر کرنا ممنوع ہے جس سے بغل نظر آئے، یعنی ہاتھ کو ہموار سطح سے اونچا کرنا ممنوع ہے اس لیے کوڑے سے ایک حد سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی، اسی وجہ سے چالیس سے بڑھا کر اسی کوڑے مقرر کیے گئے۔