13680- عن يعقوب بن عتبة قال: بعث أبو عبيدة بن الجراح وبرة بن رومان الكلبي إلى عمر بن الخطاب أن الناس قد تتابعوا في شرب الخمر بالشام وقد ضربت أربعين ولا أراها تغني عنهم شيئا فاستشار عمر الناس فقال علي: أرى أن تجعلها بمنزلة حد الفرية أن الرجل إذا شرب هذى وإذا هذي افترى فجلدها عمر وكتب إلى أبي عبيدة فجلدها بالشام. "ابن جرير".
13680 یعقوب بن عتبہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح (رض) نے وبرۃ بن رومان البکلی کو حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس پیغام دے کر بھیجا کہ شام میں لوگ شراب نوشی میں بڑھتے جارہے ہیں۔ حالانکہ میں چالیس کوڑے مارتا ہوں۔ لیکن مجھے نہیں محسوس ہوتا کہ کوڑوں کی اتنی تعداد ان کو اس کام سے روک دے گی۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ آپ شرب خمر کی حد کو حد تہمت کے برابر طے فرمادیں کیونکہ آدمی جب شراب نوشی کرتا ہے تو ہرزہ سرائی (بےسوچے سمجھے بکواس) کرتا ہے۔ اور جب ہرزہ سرائی کرتا ہے تو تہمت بھی لگا دیتا ہے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اتنے کوڑے مارے اور ابوعبیدہ (رض) کو بھی لکھ بھیجا۔ انھوں نے بھی ملک شام میں یہی تعداد طے فرمادی۔ ابن جریر