13696- عن عبد الرحمن بن الحارث قال: سمعت عثمان يقول: اجتنبوا الخمر فإنها أم الخبائث، إنه كان رجل ممن خلا قبلكم يتعبد ويعتزل الناس فعلقته امرأة غوية فأرسلت إليه جاريتها، فقالت له: إنها تدعوك للشهادة، فانطلق مع جاريتها، فطفقت كلما دخل بابا أغلقته دونه، حتى أفضى إلى امرأة وضيئة عندها غلام وباطية خمر1 فقالت: والله ما دعوتك للشهادة لكني دعوتك لتقع علي أو تشرب من هذا الخمر كأسا، أو تقتل هذا الغلام، قال: فاسقيني من هذا الخمر كأسا، فقال: زيديني، فلم يرم حتى وقع عليها وقتل النفس فاجتنبوا الخمر فإنها والله لا تجتمع والإيمان أبدا إلا أوشك أحدهما أن يخرج صاحبه. "عب ن هب ق ورستة في الإيمان ورواه ابن أبي الدنيا في ذم المسكر وابن أبي عاصم عب ق هب ص" مرفوعا وقال "ص" سئل الدارقطني عنه فقال: أسنده عمر بن سعيد عن الزهري ووقفه يونس ومعمر وشعيب وغيرهم عن الزهري والموقوف هو الصواب وقال "هب": الموقوف هو المحفوظ وأورد ابن الجوزي المرفوع في الواهيات وصحح الوقف "هب"
13696 عبدالرحمن بن الحارث سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عثمان (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ شراب نوشی سے اجتناب کرو۔ بیشک یہ ام الخبائث ہے۔ تم سے پہلے زمانے میں ایک عبادت گزار آدمی تھا جو لوگوں سے دور رہتا تھا۔ ایک گمراہ عورت اس پر فریفتہ ہوگئی۔ اس نے اس عبادت گزار کے پاس اپنی باندی بھیجی۔ باندی نے آکر عبادت گزار کو کہا : وہ مالکن آپ کو بلاتی ہے شہادت کے لئے۔ چنانچہ عبادت گزار باندی کے ساتھ ہولیا۔ باندی محل میں پہنچ کر ہرگز رتے دروازے کے پیچھے سے بند کرتی گئی حتیٰ کہ عبادت گزار کو اپنی آقا کے پاس پہنچا دیا جو خوبصورت تھی، اس کے پاس ایک لڑکا تھا اور ایک شیشے کا برتن شراب سے بھرا ہوا تھا۔ عورت بولی : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو کسی شہادت کے لیے نہیں بلایا ہے، بلکہ میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ آپ میرے ساتھ ہم بستر ہوں، یا اس شراب کا ایک جام پی لیں۔ یا اس بچے کو قتل کردیں۔ عبادت گزارنے (سوچ بچار کے بعد) کہا کہ مجھے اس شراب کا ایک جام پلادو۔ لیکن ایک جام پینے کے بعد اس نے خود ہی مزید پینے کی تمنا کی حتیٰ کہ وہ عورت کے ساتھ آکر بدکاری کا مرتکب بھی ہوگیا اور وہ بچے کو بھی قتل کرڈالا۔
پھر حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : لہٰذا اس شراب سے بچو۔ اللہ کی قسم ! یہ اور ایمان دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، الایہ کہ ان سے کوئی ایک نکل جائے تو دوسرا رہ سکتا ہے۔
الجامع لعبد الرزاق، النسائی، شعب الایمان للبیہقی، السنن للبیہقی ، رستۃ فی الایمان، رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم المسکر، ابن ابی عاصم، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی، شعب الایمان للبیہقی، السنن لسعیدبن منصور مرفوعاً ۔
سعید بن منصور فرماتے ہیں : امام دارقطنی (رح) سے اس روایت کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : عمر بن سعید نے زہری سے اس کو مسنداً بیان کیا ہے اور یونس، معمر اور شعیب وغیرھم نے زہری سے موقوفاً بیان کیا ہے اور موقوف ہی درست ہے۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں موقوف زیادہ محفوظ ہے۔ امام ابن جوزی (رح) نے اس کا مرفوع ہونا واہیات میں ذکر کیا ہے اور اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی