hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 13714

.

كنز العمال

13714
Kanz al-Ummal
13714- عن عبد الرحمن بن الأزهر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح وأنا غلام شاب يسأل عن منزل خالد بن الوليد وأتى بشارب، وأمرهم فضربوه بما في أيديهم، فمنهم من ضرب بالسوط، ومنهم من ضرب بالنعل، ومنهم من ضرب بالعصا، وحثا عليه النبي صلى الله عليه وسلم التراب فلما كان أبو بكر فأتي بشارب فسأله أصحابه كم ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي ضربه فحرزوه أربعين فضرب أبو بكر أربعين، ثم كتب خالد ابن الوليد إلى عمر أن الناس قد انهمكوا في الشراب، وتحاقروا العقوبة، وعنده المهاجرون الأولون فقالوا: نرى أن تتم له الحد ثمانين، قال: وقال علي: إذا شرب هذى، وإذا هذى افترى فأتم له الحد. "ش وابن جرير".
13714 عبدالرحمن بن الزھر سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے سال دیکھا، اس وقت میں نوجوان لڑکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خالد بن الولید کے ٹھکانے کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شراب نوش کو لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اسے مارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ تھا انھوں نے اسی سے اس کو مارنا شروع کردیا، کسی نے کوڑے سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے اپنی لاٹھی سے مارا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر مٹی کی مٹھی پھینکی۔ پھر جب حضرت ابوبکر (رض) کا دور مبارک آیا تو ایک شرابی کو لایا گیا آپ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنا مارا ہے ؟ صحابہ نے سوچ بچار کرکے بتایا کہ چالیس ضربیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے چالیس ضربیں لگوائیں۔ پھر حضرت عمر (رض) کے دور مبارک میں (سپہ سالار) حضرت خالد بن ولید نے عمر (رض) کو لکھا کہ لوگ اس سا کو کم اور حقیر خیال کرکے شراب میں منہمک ہوگئے ہیں۔ حضرت عمر (رض) کے پاس مہاجرین اولین بھی بیٹھے تھے وہ کہنے لگے : ہمارا خیال ہے کہ آپ اس حد میں اسی کوڑے پورے کردیں۔ حضرت علی (رض) نے بھی اس کی تائید میں فرمایا : آدمی جب شراب پیتا ہے تو ہرزہ سرائی کرتا ہے اور جب ہرزہ سرائی کرتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اور بہتان کی سزا (اسی کوڑے ہے یہی آپ) پوری کردیں۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر