13716- عن محمد بن كعب القرظي قال: غزا عبد الرحمن بن سهل الأنصاري في زمن عثمان، ومعاوية أمير على الشام، فمرت به روايا خمر تحمل، فقام إليها عبد الرحمن برمحه، فبقر كل رواية منها فناوشه2 غلمانه حتى بلغ شأنه معاوية، فقال: دعوه فإنه شيخ قد ذهب عقله فقال: كذب والله ما ذهب عقلي ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا أن ندخله بطوننا واسقيتنا، وأحلف بالله لئن أنا بقيت حتى أرى في معاوية ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبقرن1 بطنه أو لأموتن دونه. "الحسن بن سفيان وابن منده كر".
13716 محمد بن کعب القرظی سے مروی ہے کہ عبدالرحمن بن سہل الانصاری (رض) نے حضرت عثمان (رض) کے زمانے میں غزوہ کیا۔ اس وقت حضرت معاویۃ (رض) ملک شام پر امیر تھے۔ حضرت عبدالرحمن (رض) کے سامنے سے شراب کے مٹکے گزرے جو کہیں اٹھا کرلے جائے جارہے تھے۔ حضرت عبدالرحمن (رض) ان کو دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھے اور نیزے کے ساتھ ہر مٹکے کو توڑتے گئے۔ حضرت امیر معاویہ کے کارندوں نے آپ کو پکڑ لیا۔ آپ کی خبر حضرت امیر معاویہ کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ بوڑھے آدمی ہیں، ان کی عقل ٹھکانے نہیں ہے۔ حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میری عقل اپنی جگہ پر ہے، لیکن بات یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو منع فرمایا ہے کہ ہم اس کو اپنے شکموں میں یا اپنے پینے کے برتنوں میں ڈالیں، اور میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں کہ اگر میں زندہ رہا حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہوئی ایک بات اگر میں نے معاویہ میں نوٹ کرلی تو میں ان کا شکم چاک کردوں گا یا پھر میری موت ہی آجائے گی۔
الحسن بن سفیان ، ابن مندہ، ابن عساکر