hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 13738

.

كنز العمال

13738
Kanz al-Ummal
13738- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة أن عمر بن الخطاب ولى قدامة بن مظعون البحرين، فخرج قدامة على عمله، فأقام فيه لا يشتكى في مظلمة ولا فرج إلا أنه لا يحضر الصلاة، قال: فقدم الجارود سيد عبد القيس على عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين، إن قدامة قد شرب وإني إذا رأيت حدا من حدود الله كان حقا علي أن أرفعه إليك. فقال عمر: من يشهد على ما تقول؟ فقال الجارود: أبو هريرة يشهد، فكتب عمر إلى قدامة بالقدوم عليه فقدم، فأقبل الجارود يكلم [عمر] ويقول أقم على هذا كتاب الله، فقال عمر: أشاهد أنت أم خصم؟ فقال الجارود: بل أنا شاهد، فقال عمر: قد كنت أديت شهادتك، فسكت الجارود، ثم غدا عليه من الغد فقال أقم الحد على هذا فقال عمر: ما أراك إلا خصما، وما يشهد عليه إلا رجل واحد، أما والله لتملكن لسانك أو لأسؤنك، فقال الجارود: أما والله ما ذلك بالحق أن يشرب ابن عمك وتسؤني [فوزعه] عمر. "ابن سعد وابن وهب"
13738 عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے قدامہ بن مظعون کو بحرین کا گورنر بنادیا۔ قدامہ اپنے منصب پر نکلے۔ وہاں ان کے متعلق کسی طرح کی برائی اور بدکاری کی شکایت نہیں آئی سوائے اس کے کہ وہ نماز میں حاضر نہ ہو پاتے تھے۔ وہاں کے قبیلے عبدالقیس کے سردار جارود حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یا امیر المومنین ! قدامہ نے شراب نوشی کی ہے اور مجھ پر لازم ہے کہ اگر میں حدود اللہ میں سے کسی حد کو دیکھوں تو اس کا قضیہ آپ کو ضرور پہنچاؤں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : جو تم کہہ رہے اس کی گواہی کون دے گا ؟ جارود نے حضرت ابوہریرہ (رض) کا نام لیا کہ وہ بھی اس بات کی شہادت دیں گے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے قدامہ کو مراسلہ بھیجا کہ وہ میرے پاس آئیں۔ چنانچہ وہ حاضر ہوگئے۔ جارود حضرت عمر (رض) سے (بار بار) کہتے : اس پر کتاب اللہ کو نافذ کریں (حد شراب جاری کریں) حضرت عمر (رض) نے جارود سے پوچھا : تم اس پر شہادت دینے کے لیے آئے ہو یا اس کے دشمن کا کردار ادا کررہے ہو ؟ جارود بولے میں تو فقط شاہد ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تب تم نے اپنی شہادت ادا کردی (اب خاموش رہو) چنانچہ جارود تب تو خاموش ہوگئے۔ لیکن اگلے روز پھر مصر ہوئے کہ اس پر حد جاری کریں۔ تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بس میں تم کو ان کا دشمن قرار دیتا ہوں، اب صرف ایک گواہ (ابوہریرہ (رض)) بچ گیا ہے (جس کی بناء پر حد جاری نہیں کی جاسکتی) اب یا تو تم اپنی زبان کو لگام دو ورنہ میں تمہارا برا حشر کروں گا۔ جارود بولے : اللہ کی قسم ! یہ حق بات نہیں ہے کہ آپ کا چچا زاد (قدامہ) تو شراب پئے اور آپ الٹا مجھے براگردانیں (آخر حضرت عمر (رض)) نے جاود کو چھوڑ دیا۔
ابن سعد، ابن وھب