13774- عن إبراهيم قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمار بن ياسر وهو عامل له على الكوفة، أما بعد، فإنه أتي إلي بشراب من الشام من عصير العنب قد طبخ وهو عصير قبل أن يغلي حتى ذهب ثلثاه، وبقي ثلثه، فذهب شيطانه وريح جنونه، وبقي حلوه وحلاله فهو شبيه بطلاء الإبل فمر من قبلك فليتوسعوا به في شرابهم والسلام. "ابن خسرو".
13774 حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت عمار بن یاسر کو جو کوفہ پر ان کے گورنر تھے لکھا : اما بعد ! سنو میرے پاس ملک سے انگور کا شیرہ آیا ہے جس کو پکایا گیا ہے، اس کا دو تہائی پکنے سے کم ہو کر ایک تہائی باقی رہ گیا ہے۔ اس طرح اس کا شیطان اور اس کے پاگل کردینے والی بو ختم ہوگئی ہے لیکن وہ (پڑا پڑا) جوش مارنے نہیں لگا۔ اس لیے اس کی مٹھاس اور اس کی حلت باقی رہ گئی ہے۔ اب وہ اونٹ کے طلاء (عنی جیسی نبیذ اونٹوں کو دی جاتی ہے اس) جیسا ہے۔ لہٰذا تمہارے ہاں جو اس طرح کی نبیذ پینا چاہیں ان کی گنجائش دو ۔ والسلام۔ ابن خسرو