1378 - (ومن مسند سراقة بن مالك) عن المغيرة بن سعد بن الأخزم عن أبيه أو عن عمه قال "أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أريد أن أسأله فقيل لي هو بعرفة فاستقبلته فأخذت بزمام الناقة فصاح بي أناس من أصحابه فقال: دعوه فارب ماجاء به فقلت يا رسول الله دلني على عمل يقربني من الجنة ويباعدني من النار فقال إن كنت أوجزت في الخطبة فقد أعظمت وأطولت فسكت ساعة ثم رفع رأسه إلى السماء فنظر فقال: تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحب للناس ما تحب أن يأتوا إليك، وما كرهت أن يأتوك إليك فدع الناس منه، خل زمام الناقة". (ابن جرير) .
١٣٧٨۔۔ ازمسند سراقہ (رض) بن مالک مغیرہ بن سعد بن الاخزم اپنے والد سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں میں حضور سے کچھ سوال کرنے کی غرض سے حاضر ہوا مجھے بتایا گیا کہ آپ میدان عرفات میں ہیں۔ میں آپ کے پاس پہنچا اور اونٹنی کی مہار میں نے تھام لی آپ کے اصحاب یہ دیکھ کر مجھ پرچیخے۔ مگر اپ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو معلوم ہوا کہ اس کی کیا حاجت ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے ایسا کوئی عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت سے قریب تر اور جہنم سے بعید تر کردے۔ آپ نے فرمایا اگرچہ تو نے مختصر سی بات کہی ہے مگر درحقیقت یہ بہت بڑی اور عظیم بات ہے۔ پھر آپ نے کچھ سکوت فرمایا اور پھر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کر جو لوگوں سے اپنے لیے چاہتیہ و اور جو بات کہ لوگوں سے اپنے لیے ناپسند کرتے ہو لوگوں کے لیے بھی اس کو چھوڑ دو ۔ اب ناقہ کی زمام چھوڑ دو ۔ ابن جریر۔