13784- عن الشعبي قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمار بن ياسر أما بعد، فإنه جاءتنا أشربة من قبل الشام كأنها طلاء الإبل قد طبخ حتى ذهب ثلثاه الذي فيه خبث الشيطان وريح جنونه، وبقى ثلثه فاصطبغه وأمر من قبلك أن يصطبغه. "عب وأبو نعيم في الطب" ورواه "خط" في تلخيص المتشابه عن الشعبي عن حيان الأسدي قال: أتانا كتاب عمر فذكره بلفظ ذهب شره وبقي خيره فاشربوه.
13784 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عمار بن یاسر کو لکھا : اما بعد ! ہمارے پاس ملک شام سے کچھ پینے کے مشروب آئے ہیں وہ اونٹوں کے طلاء (نبیذ) جیسے ہیں۔ ان کو پکایا گیا ہے حتیٰ کہ اس کا دو تہائی ختم ہوگیا ہے جو شیطان کا گندا حصہ اور اس کے جنون کی بو تھا۔اور ایک تہائی باقی رہ گیا ہے۔ اس کو اپنے سالن وغیرہ میں استعمال کرو۔ اور اپنی طرف کے لوگوں کو اجازت دو کہ وہ اس کو اپنے کھانے سالن وغیرہ میں استعمال کرلیں۔ الجامع لعبد الرزاق، ابونعیم فی الطب
خطیب بغدادی (رح) نے اس کو تلخیص المتشابہ میں عن الشعبی عن حیان الاسدی سے یوں نقل کیا حیان اسدی فرماتے ہیں : ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا مراسلہ پہنچا جس میں (ذرا مختلف ) یہ الفاظ تھے : ان کا شر چلا گیا اور اس کا خیر باقی رہ گیا ہے۔ پس اس کو نوش کرسکتے ہو۔