1385 - عن سويد بن حجير قال أخبرني قال "لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بين عرفة والمزدلفة فأخذت بخطام ناقته فقلت ماذا يقربني من الجنة ويباعدني من النار فقال أما والله إن كنت أوجزت المسألة لقد أعظمت وأطولت أقم الصلاة المكتوبة وأد الزكاة المفروضة واحجج البيت وما أحببت أن يفعل بك الناس فافعله بهم وما كرهت أن يفعله الناس بك فدع الناس منه، خل خطام الناقة". (ابن جرير) .
١٣٨٥۔۔ سوید بن حجیر سے مروی ہے کہ میں آپ سے عرفہ مزدلفہ کے درمیان ملا تو میں نے آپ کی ناقہ کی نکیل تھام لی اور کہا مجھے ایساعمل بتا دیجئے جو مجھے جنت سے قریب اور جہنم سے دور کردے ؟ فرمایا اگرچہ تو نے مختصرا سی بات کہی ہے مگر درحقیقت یہ بہت بڑی اور عظیم بات ہے فرض نماز قائم کرو۔ فریضہ زکوۃ اد اکرو، بیت اللہ کا حج کرو، اور لوگوں کا جو سلوک اپنے پسند کرتے ہو وہی ان کے ساتھ بھی کرو۔ اور جو بات کہ لوگوں سے اپنے لیے ناپسند کرتے لوگوں کے لیے بھی اس کو چھوڑ دو اب ناقہ کی لگام چھوڑ دو ۔ ابن جریر۔