13859- عن عبد الله بن الديلمي عن أبيه قال: قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم برأس الأسود العنسي الكذاب فقلنا: يا رسول الله قد علمت من نحن فإلى من نحن؟ قال: إلى الله ورسوله، قلنا يا رسول الله إن لنا أعنابا فما نصنع بها؟ قال: زببوها، قلنا يا رسول الله فما نصنع بالزبيب؟ قال: انبذوه على غدائكم، واشربوه على عشائكم، وانبذوه على عشائكم واشربوه على غدائكم، ولا تنبذوا في القلل وانبذوا في الشنان فإنه إن تأخر عن عصره صار خلا. "ابن منده كر"
13859 عبداللہ بن الدیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اسودعنسی کذاب کا سر لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ ہم کو جانتے ہیں کہ ہم کون لوگ ہیں اب بتائیں ہم کن پر آسرار رکھیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم انگوروں کے مالک ہیں ان کا ہم کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی کشمش بنالو۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کشمش کا کیا کریں گے ؟ فرمایا : صبح کو ان کی نبیذ ڈالو شام کو پی لو ۔ اور شام کو ڈالو صبح کو پی لو ۔ اور ہاں گھڑوں میں نہ بناؤ بلکہ مشکیزوں میں بناؤ۔ کیونکہ اگر ان کو نچوڑنے میں دیر بھی ہوگئی تو وہ سرکہ بن جائے گا۔
ابن مندہ، ابن عساکر