13868- عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أن رجلا من أهل اليمن أقطع اليد والرجل قدم على أبي بكر الصديق، فشكا إليه أن عامل اليمن ظلمه، وكان يصلي بالليل فيقول أبو بكر: وأبيك ما ليلك بليل سارق، ثم إنهم فقدوا حليا لأسماء بنت عميس امراة أبي بكر فجعل الرجل يطوف معهم ويقول: اللهم عليك بمن بيت أهل هذا البيت الصالح، فوجدوا الحلي عند صائغ، و [زعم] أن الأقطع جاء به، فاعترف به الأقطع أو شهد عليه به، فأمر به أبو بكر فقطعت يده اليسرى وقال أبو بكر: لدعاءه على نفسه أشد عندي من سرقته. "مالك والشافعي هق"
13868 عبدالرحمن بن القاسم اپنے والد قاسم (بن ابی بکر (رض)) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یمنی آدمی جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا تھا حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں آیا اور شکایت کی یمن کے عامل (گورنر) نے ان پر ظلم کیا ہے حالانکہ میں رات کو نماز پڑھتا ہوں (تہجد گزار آدمی ہوں) حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو فرمایا تیرے باپ کی قسم ! تیری رات تو چور کی رات نہیں ہے (دن ہوسکتا ہے) پھر ایک مرتبہ اسماء بنت عمیس جو ابوبکر (رض) کی اہلیہ تھیں، ان کا زیور گم ہوگیا وہ آدمی بھی گھروالوں کے ساتھ مل کر ڈھونڈتا رہا اور یوں کہتا رہا : اے اللہ جس نے اس نیک گھرانے کی چوری کی ہے اس کو پکڑ لے۔ پھر گھر والوں کو زیور ایک صراف کے پاس مل گیا۔ صراف نے بتایا کہ ایک کٹے ہاتھ والا لے کر آیا تھا۔ چنانچہ اس نے بھی اعتراف کرلیا یا اس پر گواہ مل گئے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے حکم دیا اور اس کا دوسرا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اس کا اپنے خلاف بددعا کرنا مجھے اس کے چوری کرنے سے زیادہ سخت معلوم ہوتا ہے۔
موطا امام مالک، الشافعی، السنن للبیہقی