13935- عن الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بسارق فقيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه لناس من الأنصار ما لهم مال غيره، فتركه، ثم أتى به الثانية، فتركه، ثم أتي به الثالثة، فتركه، ثم أتي به الرابعة، فتركه، ثم أتي به الخامسة فقطع يمينه، ثم أتي به السادسة فقطع رجله، ثم أتي به السابعة، فقطع يده، ثم أتي به الثامنة فقطع رجله، ثم قال: أربع بأربع. "هارون في المسند وأبو نعيم".
13935 حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چور کو لایا گیا۔ آپ کو عرض کیا گیا یہ انصار کا ایک آدمی ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور مال نہیں ہے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کو دوبارہ لایا گیا تو آپ نے پھر چھوڑ دیا پھر اس کو (اسی جرم میں) تیسری بار لایا گیا آپ نے پھر چھوڑ دیا۔ پھر چوتھی بار بھی چھوڑ دیا۔ پھر جب پانچویں بار اس کو لایا گیا تو آپ نے اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا پھر چھٹی بار لایا گیا تو اس کا (بایاں) پاؤں کاٹ دیا۔ پھر ساتویں بار لایا گیا تو اس کا دوسرا ہاتھ کاٹ دیا پھر آٹھویں بار اس کا دوسرا پاؤں بھی کاٹ دیا اور پھر فرمایا : چار چار کے بدلے۔ ھانرون فی المسند ، ابونعیم